SOCIAL DIGEST WRITTER
NOVEL:" GAWAH RAFAQATON KA HILAAL E EID ",
AUTHOR : SABA JAVED,
CATEGORY ; FORCED MARRIAGE, EMERGENCY NIKAH, SPECIAL EID BASED...
Novel Description
ناول کا نام: گواہ رفاقتوں کا ہلالِ عید
مصنفہ: صبا جاوید
اشاعت : حنا ڈائجسٹ، اگست 2014 
Forced Marriage based | Emergency Nikah | After Marriage | Eid Based
کہانی کے ہیرو افنان اور ہیروئن انشال کا نکاح اچانک اور ہنگامی حالات میں ہو جاتا ہے۔ یہ رشتہ دراصل ہیرو کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے، اسی لیے افنان ضد اور ناراضی میں انشال سے دور رہتا ہے 
انشال اسی گھر میں رہ رہی ہوتی ہے اور صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتی ہے۔ لیکن افنان کا رویہ اس سے کافی روڈ رہتا ہے۔۔
افنان کے اس رویّے سے دل برداشتہ ہو کر انشال خاموشی سے گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ اس کے جانے کے بعد افنان کو اپنی غلطی اور اس رشتے کی اہمیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ کہانی ایسے موڑ لیتی ہے جہاں ناراضی کی جگہ سمجھ اور محبت لے لیتی ہے۔ 
آخرکار یہ کہانی خوبصورت اور خوشگوار انجام (ہیپی اینڈنگ) کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جو عید کی خوشیوں کی طرح دل کو بھی خوشی سے بھر دیتی ہے۔ 


--------------------------------
STORRY SCENE
مما جان سے اپ نے میری شکایت لگائی ہے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم بہت معصوم ہو ظلم و بربریت کا ہر طوفان میں نے تمہارے وجود پر توڑ دیا ہے۔ کس چیز کا بدلہ لے رہی ہو تم۔”دھیمی مگر تلخ اواز میں وہ غرایا۔
“میں نے مما جان سے کچھ نہیں کہا۔”اس کے جارحانہ تیوروں سے وہ خوفزدہ ہو گئی۔
“وبال جان ہو تم جس دن سے میری زندگی میں آئی ہو سکون چھین لیا ہے میرا۔” اس کی انکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔مما جان کی ناراضگی سے زیادہ اس ناراضگی کا سبب اسے تکلیف دے رہا تھا اپنے بیٹے پر وہ اس لڑکی کو فوقیت دے رہی تھی اس نے گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔
وہ کمبل ہٹا کر بیڈ سے اٹھی ایک دم اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے بھی بےساختہ بیڈ کا کونا تھاما۔
“کہاں جا رہی ہو تم۔”پیشانی پر شکنوں کا جال پھیلا۔
“سٹڈی میں۔”وہ منمنائی۔
“رہنے دو ادھر ہی لیٹ جاؤ۔”اس کی طبیعت خرابی کے پیش نظر وہ دھیمی آواز میں بولا۔
“نہیں میں وہاں زیادہ کمفرٹیبل محسوس کروں گی۔مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں ہے میں کسی سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔”اس نے ٹکڑا توڑ انکار کیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے مجھے مما جان کا خوف ہے اس لیے میں ہمدردی دکھا رہا ہوں یا بہت تڑپ رہا ہوں تمہیں چھونے کے لیے۔کیا سوچتی ہو تم اس طرح تمہارے یہ ناٹک مجھے متاثر کریں یہ ناٹک مجھ پر رتی برابر بھی اثر نہیں کریں گے سازشی لڑکی۔”انکھوں میں تنفر بھر کر لبوں سے شعلے برسائے۔
“میں ایسا کچھ نہیں چاہتی یہ سب آپ کے دماغ کا فتور ہے اس کی غلط فہمیاں اسے فق کر گئی مگر وہ خاموش نہیں رہ سکی۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے اور پھر کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔” سر ہاتھوں پر گرا کر وہ حلق کے بل دھاڑا۔..
“میں نے مما جان سے کچھ نہیں کہا۔”اس کے جارحانہ تیوروں سے وہ خوفزدہ ہو گئی۔
“وبال جان ہو تم جس دن سے میری زندگی میں آئی ہو سکون چھین لیا ہے میرا۔” اس کی انکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔مما جان کی ناراضگی سے زیادہ اس ناراضگی کا سبب اسے تکلیف دے رہا تھا اپنے بیٹے پر وہ اس لڑکی کو فوقیت دے رہی تھی اس نے گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔
وہ کمبل ہٹا کر بیڈ سے اٹھی ایک دم اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے بھی بےساختہ بیڈ کا کونا تھاما۔
“کہاں جا رہی ہو تم۔”پیشانی پر شکنوں کا جال پھیلا۔
“سٹڈی میں۔”وہ منمنائی۔
“رہنے دو ادھر ہی لیٹ جاؤ۔”اس کی طبیعت خرابی کے پیش نظر وہ دھیمی آواز میں بولا۔
“نہیں میں وہاں زیادہ کمفرٹیبل محسوس کروں گی۔مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں ہے میں کسی سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔”اس نے ٹکڑا توڑ انکار کیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے مجھے مما جان کا خوف ہے اس لیے میں ہمدردی دکھا رہا ہوں یا بہت تڑپ رہا ہوں تمہیں چھونے کے لیے۔کیا سوچتی ہو تم اس طرح تمہارے یہ ناٹک مجھے متاثر کریں یہ ناٹک مجھ پر رتی برابر بھی اثر نہیں کریں گے سازشی لڑکی۔”انکھوں میں تنفر بھر کر لبوں سے شعلے برسائے۔
“میں ایسا کچھ نہیں چاہتی یہ سب آپ کے دماغ کا فتور ہے اس کی غلط فہمیاں اسے فق کر گئی مگر وہ خاموش نہیں رہ سکی۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے اور پھر کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔” سر ہاتھوں پر گرا کر وہ حلق کے بل دھاڑا۔..
-----------------------------------------------------------
SABA JAVED NOVELS PUBLISH IN MONTHLY DIGEST.
HER WRITTING MATURE , FACINATED, EFFECTED AND BASED ON SOCIAL TOPICS.
HER WRITING SKILLS WAS VERY IMPRESSIVE.
ONLINE READING
0 Comments