NOVEL: "WO JO MERA MUQADDAR TEHRA", EPISODE 19 CONTINUE....

  SOCIAL MEDIA WEB WRITTER

NOVEL: "WO JO MERA MUQADDAR TEHRA",  

AUTHOR : SYEDA JAWERIA SHABBIR,

CATEGORY ; ASP POLICE OFFICER BASED, LAWYER BASED, SECOND MARRIAGE BASED.....

EPISODE NO 19 TO BE CONTINUE....



"SNEAK PEAK"

وہ آئینے کے سامنے کھڑا، پولیس یونیفارم میں ملبوس اپنے وجود پر کلون چھڑک رہا تھا۔۔۔۔ شیشیے میں پیچھے کھڑی  ارشبہ  کاعکس لہرایا تو وہ پلٹا۔۔ سائیڈ ٹیبل کی طرف مڑا، دراز کھول کر نجانے کیا تلاشا ۔۔۔
اندر آجائیں۔۔۔" گھنبیر، نرم آواز پر اس کا  دل کانپا۔۔
 نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔" ارشبہ نے وہیں کھڑے کہا تو وہ حیرت سے مڑ  کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
پھر نپے ، تلے قدم اٹھا کر اس تک آیا۔۔۔
ویل ڈریسڈسا اس کی آنکھوں  کے ذریعے دل میں اترنے کی تمام تر کشش  لئےاس کے عین سامنے موجود تھا۔۔۔۔۔
یہ آپ کیلئے۔۔" سیاہ رنگ کا مخملی کیساس کی جانب بڑھایا۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔؟ ارشبہ نے چوکور کیس کو دیکھا:
نکاح کا تحفہ۔۔۔" ارشبہ حق دق اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
چہرے  کے نرم تاثرات غائب ہوگئے۔۔ گالوں پر سرخی جھلکی۔۔۔ ارحم بغور اس کے بدلتے تاثرات دیکھتا رہا۔۔۔۔
"مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔ انعم کیلئے سنھال رکھیں۔۔۔"
وہ اکھڑے ہوئے انداز میں کہہ کر رکی نہیں بلکہ راہدار عبور کرگئی۔۔۔ ارحم کی آنکھوں میں سنجیدگی در آئی۔۔۔
ارحم چند لمحے اسی جگہ ساکت کھڑا رہا۔۔۔
اس کے ہاتھ میں تھما مخملی کیس اب بھی ویسے ہی کھلا تھا۔۔۔
چہرے پر ابھرتی سنجیدگی گہری ہوتی چلی گئی۔۔۔

پھر اس نے دھیرے سے کیس بند کیا۔۔۔ میز پر رکھا۔۔۔ اور تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔

راہداری میں ارشبہ سیڑھیاں اترنے ہی والی تھی کہ اس کی مضبوط آواز نے اسے روک لیا۔۔۔

"ارشبہ۔۔۔!"
اس کے قدم بے اختیار تھم گئے۔۔۔
مگر وہ پلٹی نہیں۔۔۔

ارحم چند قدم کے فاصلے پر آکر رکا۔۔۔
"میری بات مکمل سنے بغیر جانے کی عادت ہے آپ کو۔۔۔؟"
اس نے آہستگی سے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔
آنکھوں میں خفگی تھی۔۔۔ اور کہیں بہت اندر نمی بھی۔۔۔
"جو بات سمجھ آچکی ہو، اسے دوبارہ سننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔"
وہ بمشکل بولی۔۔۔
ارحم نے جبڑا بھینچا۔۔۔ پھر خود کو قابو میں کیا۔۔۔
"تو آپ نے کیا سمجھا ہے۔۔۔؟"
"یہی کہ آپ غلط جگہ تحفے بانٹ رہے ہیں۔۔۔"
اس بار لہجہ نرم تھا۔۔۔ مگر لفظ تیر کی طرح نکلے۔۔۔
ارحم چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
پھر ہلکا سا سر جھکایا۔۔۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔۔۔
"آپ کو واقعی لگتا ہے میں کسی اور کیلئے خریدا ہوا تحفہ آپ کو دے سکتا ہوں۔۔۔؟"
ارشبہ خاموش رہی۔۔۔
"جو چیز آپ کیلئے لی جائے۔۔۔ وہ کسی اور کیلئے کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔؟"
اس کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رکی۔۔۔
ارشبہ نے نظریں چرا لیں۔۔۔ 
------------------------------------------------------------------------------------

 


"SYEDA JAWERIA SHABBIR"  NOVELS PUBLISHE IN MANY WEB & BLOGS. THIS NOVEL PUBLISH IN SYEDA COLLECTIONS & NOVELISTIC WEB ERA......

HER WRITTING  MATURE , FACINATED, EFFECTED AND BASED ON  SOCIAL TOPICS.

HER WRITING SKILLS WAS VERY IMPRESSIVE.

ONLINE READING  

Post a Comment

0 Comments